خدا نے کبھی میرے ساتھ انصاف نیہں کیا

Urdu Adab & Shayeri اردو ادب اور شاعری
Post Reply
User avatar
Farhat
Posts: 12
Joined: Wed Sep 27, 2017 1:00 pm
Location: Pakistan
Contact:

خدا نے کبھی میرے ساتھ انصاف نیہں کیا

Post by Farhat » Sat Oct 07, 2017 10:19 am

"خدا نے کبھی میرے ساتھ انصاف نہیں کیا-" وہ بلآخر بولا تھا-
"کیوں صرف اس لیے کہ اس نے تمہیں چند چیزوں سے محروم رکھا، یا محروم کر دیا؟ جن چیزوں سے محروم رکھا، انھیں تم انگلی کی پوروں پر گن سکتے ہو مگر جو چیزیں اس نے تمھارے مانگے بغیر ہی تمہیں دے دیں، انھیں تم انگلی کی پوروں پر نہیں گن سکتے- اپنی محرومیاں مجھے بتاؤ گے تو چند منٹ لگیں گے اور اگر ان عنایات کا ذکر کرو گے جو الله نے تم پر کی ہیں تو تمہیں رات ہو جائے گی اور یہ سب الله نے اس وقت دیا جب تم مسلمان ہو-"
"کرسٹینا! میرے پاس سکون نہیں ہے اور مجھے اس وقت سکون کے علاوہ دنیا کی کسی اور چیز کی ضرورت نہیں ہے- جن چیزوں کی تم بات کر رہی ہو مجھے ان کی ضرورت نہیں ہے-"
"اور سکون تمہیں مذہب تبدیل کرنے سے مل جائے گا- ہے نا؟ میں کرسچین ہوں، مجھے تو نہیں ملا سکون- تمہیں کہاں سے ملے گا؟"
"میں نے بائبل کے کچھ حصے پڑھے ہیں- مجھے سکون ملا ہے-"
"میں نے پوری بائبل پڑھی ہے- مجھے سکون نہیں ملا-"
وہ بے چینی کے عالم میں اس کا چہرہ دیکھتا رہا تھا-
"میں سچ کہ رہا ہوں کرسٹینا! مجھے واقعی ہی سکون ملا-"
"تمہیں پتا ہے تمہیں کیوں سکون ملا؟ کیونکہ تم نے سکون کی تلاش میں بائبل کو پڑھا- قرآن پاک کو کتنی بار تم نے سکون کی تلاش میں پڑھا؟ قرآن پاک کو ہمیشہ ضرورت کے لیے پڑھا- چرچ میں آ کر تمہیں سکون ملا ہو گا کیونکہ یہاں تم صرف سکون کے لیے آئے تھے- مسجد میں کتنی بار تم صرف سکون کی تلاش میں گئے؟ وہاں تو ہمیشہ تم ضرورت کے تحت گئے ہو گے-"
وہ کچھ دیر کچھ نہیں بول سکا- اس کے پاس دلیل تھی اور حدید کے پاس بہانہ تھا اور دلیل ہر بہانے کے پرخچے اڑا رہی تھی-
"تم نے بائبل کو کس زبان میں پڑھا؟"
"انگلش میں-"
"اور قرآن کو؟"
"عربک میں-"
"تم نے بائبل کو کس عمر میں پڑھا؟"
"انیس سال کی عمر میں-"
"اور قرآن کو؟"
"دس سال کی عمر میں-" وہ چند لمحے خاموشی سے اس کا چہرہ دیکھتی رہی تھی-
"تم نے بائبل کو انیس سال کی عمر میں سکون کے لیے اس زبان میں پڑھا، جسے تم جانتے ہو اور تمہیں لگا کہ تمہیں سکون مل گیا ہے- تم نے قرآن پاک کو دس سال کی عمر میں صرف ضرورت کے لیے اس زبان میں پڑھا جسے تم جانتے تک نہیں اور تمہیں لگا کہ تمہیں کچھ نہیں ملا-"
تم محمد صلى الله عليه وسلم کے پیروکاروں میں سے ہو نا؟ تمہیں پتا ہے انھوں نے کسی زندگی گزاری تھی؟ ہم نہیں جانتے الله کو ہم سے محبّت ہے کہ نہیں مگر اس دنیا کا ایک انسان ایسا ضرور ہے جس کے بارے میں ہم بغیر کسی شبہہ کے کہہ سکتے ہیں کہ الله کو اس سے محبّت ہے اور وہ ہیں محمد صلى الله عليه وسلم اور جس انسان سے الله نے سب سے زیادہ محبت کی اسے بھی آزمائشوں سے گزارا- تم ماں باپ سے اس وقت محروم ہوئے جب تم ان کے محتاج نہیں رہے تھے- محمد صلى الله عليه وسلم نے اپنے باپ کی شکل تک نہیں دیکھی، ان کی ماں اس وقت دنیا سے چلی گئیں جب ماں کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے- تمھارے قدموں میں کسی نے کانٹے نہیں بچھائے ہوں گے- تمھارے جسم پر کسی نے غلاظت اور کوڑا کرکٹ نہیں پھینکا ہو گا- محمد صلى الله عليه وسلم کے ساتھ مکہ کی گلیوں میں یہی سب ہوتا تھا- تم تو ماں باپ کے حوالے سے ہونے والی تھوڑی سی بدنامی سے ڈر گئے- انھیں تو پورا مکہ پتا نہیں کیا کیا کہا کرتا تھا- تم کہتے ہو، تمہارا خاندان ختم ہو گیا ہے- تمھارے رشتہ داروں نے تمھارے ساتھ زیادتی کی ہے- انھیں تو تین سال تک ایک گھاٹی میں قید کر دیا گیا تھا- تم پر کسی نے پتھر نہیں برسائے، ان پر برسائے گئے تھے- تم نے صرف اپنے ماں باپ اپنے ہاتھوں دفنائے ہیں، انہوں نے اپنی اولادیں، اپنے بیٹے اپنے ہاتھوں دفنائے تھے- تمہیں خدا نے کبھی رزق کی کمی کا شکار نہیں کیا- انھوں نے تو فاقے بھی کاٹے تھے- تم الله سے برگشتہ ہو گئے- مذہب بدلنے پر تیار ہو گئے- مگر انھوں نے الله سے شکوہ کیا نہ اسے چھوڑا- تمہیں پتا ہے محمد صلى الله عليه وسلم سے الله کو اتنی محبت کیوں ہے؟ اسی وجہ سے الله کو ان سے محبت ہے-"
حدید نے اس کے گالوں پر پانی بہتے دیکھا تھا-
"میں انسان ہوں، پیغمبر نہیں ہوں-"
"محمد صلى الله عليه وسلم کے بعد کوئی اور پیغمبر ہو بھی نہیں سکتا، کسی اور پیغمبر کی ضرورت بھی نہیں ہے- تم پیغمبر ہو بھی کیسے سکتے ہو- تم تو پیغمبر کے پیروکار بھی نہیں رہنا چاہتے-"
حدید نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر پکڑ لیا تھا-
"جب آج گھر جاؤ گے تو قرآن پاک کا ترجمہ پڑھنا- ضرورت کے لیے نہیں، صرف سکون کے لیے، پھر کل مجھے بتانا تمہیں سکون ملا؟ قرآن کہتا ہے آزمائش اور تکلیف کے وقت صبر اور نماز سے کام لو- تم بھی یہی کرو، میں کل پھر یہاں آؤں گی، تم آؤ گے نا؟"
وہ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھے نرم آواز میں پوچھ رہی تھی- وہ نہیں جانتا تھا اس کا سر آج بھی کس طرح اثبات میں ہل گیا تھا-
تحریر: عمیرہ احمد
فرحت ملک

Post Reply